سرینگر، 29دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے)اور یوپی پولیس کے دہشت گردی سکویڈ( اے ٹی ایس)کی طرف سے گزشتہ بدھ کو یوپی اور نئی دہلی میں ہوئی چھاپہ ماری کے بعد اب جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے اس کارروائی پر سوالیہ نشان لگایا ہے۔اے ٹی ایس اور این آئی اے کی کارروائی میں آئی ایس کنکشن اور دہشت گرد انہ سازس کے شک میں 10لوگوں کے گرفتار ہونے کے بعد محبوبہ نے اس آپریشن کی ٹائمنگ پر سوال کھڑے کئے ہیں۔محبوبہ نے این آئی اے کے دعوی پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ مشتبہ افراد کوآئی ایس سے تعلق ہونے پربھی سوال اٹھایاہے۔ایجنسی کی کارروائی کے دو دن بعد محبوبہ مفتی نے اپنے ٹویٹ میں سوال اٹھائے۔جمعہ کو اپنے ٹوئٹس میں محبوبہ نے ٹویٹ میں لکھا کہ قومی سلامتی کا موضوع بہت سخت ہے، لیکن مشتبہ افراد کوستلی بم کی بنیاد پر دہشت گرد اور آئی ایس سے منسلک بتانے کا دعوی غیر منطقی ہے۔اس الزام نے پہلے ہی ان لوگوں اور ان کے خاندانوں کی زندگی برباد کردی ہے۔ایسی صورت حال میں این آئی اے کو ان مواقع سے سبق حاصل کرنا چاہئے جہاں ملزمین دہائیوں کے بعد الزام سے بری ہوگئے تھے۔وہیں ایک اور ٹویٹ میں محبوبہ نے ایجنسیوں کی طرف سے آپریشن کرنے کی ٹائمنگ پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا کہ اربن نکسل کیس کے بعد دوبارہ انتخابی وقت میں این آئی اے کی طرف سے کی گئی گرفتاری اب شک کے گھیرے میں ہے۔قومی سلامتی کے لئے ایجنسی کو پورے ملک کیلئے ایک جامع انداز میں سوچنا چاہئے، شک میں نہیں۔ آپ کو بتادیں کہ محبوبہ کا بیان اس وقت آیا جب این آئی اے نے یو پی او دہلی میں بدھ کو کئی مقامات پر چھاپے ماری کی۔اس کارروائی کے دوران، 16افراد کو پوچھ تاچھ کے بعد گرفتار کیا گیا۔این آئی اے کے مطابق گرفتار ہونے والے پانچ افراد اتر پردیش اور پانچ دہلی سے ہیں۔